دانی ایل 2:21-35 اردو جیو ورژن (UGV)

21. وہی اوقات اور زمانے بدلنے دیتا ہے۔ وہی بادشاہوں کو تخت پر بٹھا دیتا اور اُنہیں تخت پر سے اُتار دیتا ہے۔ وہی دانش مندوں کو دانائی اور سمجھ داروں کو سمجھ عطا کرتا ہے۔

22. وہی گہری اور پوشیدہ باتیں ظاہر کرتا ہے۔ جو کچھ اندھیرے میں چھپا رہتا ہے اُس کا علم وہ رکھتا ہے، کیونکہ وہ روشنی سے گھرا رہتا ہے۔

23. اے میرے باپ دادا کے خدا، مَیں تیری حمد و ثنا کرتا ہوں! تُو نے مجھے حکمت اور طاقت عطا کی ہے۔ جو بات ہم نے تجھ سے مانگی وہ تُو نے ہم پر ظاہر کی، کیونکہ تُو نے ہم پر بادشاہ کا خواب ظاہر کیا ہے۔“

24. پھر دانیال اریوک کے پاس گیا جسے بادشاہ نے بابل کے دانش مندوں کو سزائے موت دینے کی ذمہ داری دی تھی۔ اُس نے اُس سے درخواست کی، ”بابل کے دانش مندوں کو موت کے گھاٹ نہ اُتاریں، کیونکہ مَیں بادشاہ کے خواب کی تعبیر کر سکتا ہوں۔ مجھے بادشاہ کے حضور پہنچا دیں تو مَیں اُنہیں سب کچھ بتا دوں گا۔“

25. یہ سن کر اریوک بھاگ کر دانیال کو بادشاہ کے حضور لے گیا۔ وہ بولا، ”مجھے یہوداہ کے جلاوطنوں میں سے ایک آدمی مل گیا جو بادشاہ کو خواب کا مطلب بتا سکتا ہے۔“

26. تب نبوکدنضر نے دانیال سے جو بیل طَشَضَر کہلاتا تھا پوچھا، ”کیا تم مجھے وہ کچھ بتا سکتے ہو جو مَیں نے خواب میں دیکھا؟ کیا تم اُس کی تعبیر کر سکتے ہو؟“

27. دانیال نے جواب دیا، ”جو بھید بادشاہ جاننا چاہتے ہیں اُسے کھولنے کی کنجی کسی بھی دانش مند، جادوگر، قسمت کا حال بتانے والے یا غیب دان کے پاس نہیں ہوتی۔

28. لیکن آسمان پر ایک خدا ہے جو بھیدوں کا مطلب انسان پر ظاہر کر دیتا ہے۔ اُسی نے نبوکدنضر بادشاہ کو دکھایا کہ آنے والے دنوں میں کیا کچھ پیش آئے گا۔ سوتے وقت آپ نے خواب میں رویا دیکھی۔

29. اے بادشاہ، جب آپ پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے تو آپ کے ذہن میں آنے والے دنوں کے بارے میں خیالات اُبھر آئے۔ تب بھیدوں کو کھولنے والے خدا نے آپ پر ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں کیا کچھ پیش آئے گا۔

30. اِس بھید کا مطلب مجھ پر ظاہر ہوا ہے، لیکن اِس لئے نہیں کہ مجھے دیگر تمام دانش مندوں سے زیادہ حکمت حاصل ہے بلکہ اِس لئے کہ آپ کو بھید کا مطلب معلوم ہو جائے اور آپ سمجھ سکیں کہ آپ کے ذہن میں کیا کچھ اُبھر آیا ہے۔

31. اے بادشاہ، رویا میں آپ نے اپنے سامنے ایک بڑا اور لمبا تڑنگا مجسمہ دیکھا جو تیزی سے چمک رہا تھا۔ شکل و صورت ایسی تھی کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔

32. سر خالص سونے کا تھا جبکہ سینہ اور بازو چاندی کے، پیٹ اور ران پیتل کی

33. اور پنڈلیاں لوہے کی تھیں۔ اُس کے پاؤں کا آدھا حصہ لوہا اور آدھا حصہ پکی ہوئی مٹی تھا۔

34. آپ اِس منظر پر غور ہی کر رہے تھے کہ اچانک کسی پہاڑی ڈھلان سے پتھر کا بڑا ٹکڑا الگ ہوا۔ یہ بغیر کسی انسانی ہاتھ کے ہوا۔ پتھر نے دھڑام سے مجسمے کے لوہے اور مٹی کے پاؤں پر گر کر دونوں کو چُور چُور کر دیا۔

35. نتیجے میں پورا مجسمہ پاش پاش ہو گیا۔ جتنا بھی لوہا، مٹی، پیتل، چاندی اور سونا تھا وہ اُس بھوسے کی مانند بن گیا جو گاہتے وقت باقی رہ جاتا ہے۔ ہَوا نے سب کچھ یوں اُڑا دیا کہ اِن چیزوں کا نام و نشان تک نہ رہا۔ لیکن جس پتھر نے مجسمے کو گرا دیا وہ زبردست پہاڑ بن کر اِتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا اُس سے بھر گئی۔

دانی ایل 2